سپریم کورٹ نے آسیہ بی بی کو بری کر دیا

سپریم کورٹ نے آسیہ بی بی کو بری کر دیا
نومبر 2010 میں ٹرائل کورٹ نے توہین رسالت کے جرم میں 295 سی کے تحت سزائے موت سنائی تھی۔۔۔۔۔۔فائل فوٹو

اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے توہین رسالت کے جرم میں سزائے موت پانے والی آسیہ بی بی کو بری کرتے ہوئے رہا کرنے کا حکم دے دیا۔


چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس آصف سعید کھوسہ اور جسٹس مظہر عالم میاں خیل پر مشتمل تین رکنی خصوصی بینچ نے موت کی سزا پانے والی آسیہ بی بی کی درخواست پر فیصلہ سنایا۔

واضح رہے کہ مسیحی خاتون آسیہ بی بی کو نومبر 2010 میں ٹرائل کورٹ نے توہین رسالت کے جرم میں 295 سی کے تحت سزائے موت سنائی تھی جسے انہوں نے لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا تھا۔ تاہم لاہور ہائیکورٹ نے اکتوبر 2014 میں ٹرائل کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا تھا۔

جس پر 2014 میں ہی آسیہ بی بی کی جانب سے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیلیں دائر کی گئیں۔ان اپیلوں پر سماعت کے بعد سپریم کورٹ نے رواں ماہ 8 اکتوبر کو فیصلہ محفوظ کر لیا تھا جو آج سنایا گیا۔

عدالت عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں حکم دیا کہ آسیہ بی بی اگر کسی دوسرے کیس میں مطلوب نہیں تو انہیں رہا کر دیا جائے۔