حکومت اور ٹی ایل پی کے درمیان معاہدے پر عملدرآمد شروع، مظاہرین نے جی ٹی روڈ خالی کر دیا

حکومت اور ٹی ایل پی کے درمیان معاہدے پر عملدرآمد شروع، مظاہرین نے جی ٹی روڈ خالی کر دیا
سورس: فائل فوٹو

اسلام آباد: تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) اور حکومت کے درمیان طے پانے والے معاہدے پر عملدرآمد شروع ہو گیا ہے اور مظاہرین نے وزیرآباد میں جی ٹی روڈ خالی کر دیا ہے جس کے بعد صفائی کا کام جاری ہے جبکہ معاہدے کے معاملے پر وزیراعظم کی بنائی گئی سٹیئرنگ کمیٹی کا اجلاس آج لاہور میں ہو گا۔ 

ذرائع کے مطابق اجلاس کی صدارت کمیٹی کے سربراہ وزیر مملکت علی محمد خان کریں گے اور اجلاس میں صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت، وفاقی سیکرٹری داخلہ، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ پنجاب اور کالعدم تنظیم ٹی ایل پی کے نمائندے شریک ہوں گے جس دوران باقی معاملات پر بات چیت کی جائے گی۔ 

وزیر مملکت علی محمد خان نے اپنے بیان میں بتایا کہ سٹیئرنگ کمیٹی کا آج دوسرا اجلاس لاہور میں ہوگا۔ پی ٹی آئی حکومت وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں معاملے کے مل جل کر حل میں کوشاں ہے اور ملک میں امن و استحکام کیلئے معاہدہ پرعملدرآمد کیلئے پرعزم ہے۔ 

واضح رہے کہ حکومت اور کالعدم تنظیم کے درمیان معاہدہ طے پایا تھا کہ وزیر آباد کے مقام پر پہنچنے والا لانگ مارچ آج ختم کردیا جائے گا۔ حکومت احتجاج کے شرکا کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرے گی۔ 

معاہدے کی مزید شقوں کے مطابق جن کارکنوں کے خلاف عدالتوں میں دہشت گردی کے مقددمات زیر سماعت ہیں ان کے بارے میں فیصلہ عدالتیں کریں گی جبکہ عام مقدمات واپس لے لئے جائیں گے اور شرکا پرامن طور پر اپنے گھروں کو روانہ ہوجائیں گے۔ 

حکومت اور ٹی ایل پی کے معاہدے کے مطابق تحریک لبیک پاکستان آئندہ کسی پرتشدد احتجاج کا حصہ نہیں بنے گی۔ شرکا ایک دوروز تک گھروں کو واپس جائیں گے اور راستہ آج رات تک کھول دیا جائے گا۔ 

معاہدے کے مطابق کالعدم جماعت کو پابندی شدہ جماعتوں کی فہرست سے نکالا جائے گا۔ٹی ایل پی کو آئندہ سیاسی جماعت کے طورپر کام کرنے دیا جائے گا۔ 13 نکات پر مشتمل اس معاہدے پر حکومت کی جانب سے اسد قیصر، شاہ محمود قریشی اور علی محمد خان کے دستخط ہیں۔ 

حکومت اور کالعدم تنظیم کے درمیان طے پانے والے معاہدے کا اعلان مفتی منیب الرحمن نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے ساتھ پریس کانفرنس میں کیا تھا تاہم مفتی منیب الرحمن ، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور دیگر نے صحافیوں کے کسی سوال جواب نہیں دیا اور معاہدیں کی شقیں بھی سامنے لانے سے انکار کردیا تھا اور کہا تھا کہ جلد معاہدے کی شقیں سامنے آجائیں گی۔