میرے ہوتے ہوئے آئین سے انحراف نہیں ہو گا، انتخابات وقت پر ہونگے، ثاقب نثار

اسلام آباد: چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار نے وکلا کمپلیکس سے کانسٹی ٹیوشن ایونیو تک بننے والے پل کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا عاصمہ جہانگیر نے گلہ کیا میں نے انہیں کبھی ریلیف نہیں دیا اور افسوس ہے کہ میں اپنی بہن کو کبھی ریلیف نہیں دے سکا۔ وہ بہادر اور دلیر خاتون تھیں کیونکہ انہوں نے مجھے ہمیشہ اچھے مشورے دیئے تھے۔

مزید پڑھیں: بھارت کے ساتھ جامع مذاکرات کیلئے ہر وقت تیار ہیں، ترجمان دفتر خارجہ

ان کا مزید کہنا تھا کہ عاصمہ جہانگیر ہر وقت فرنٹ فٹ پر کھیلیں اور انسانی حقوق سے متعلق جلسوں میں عاصمہ جہانگیر سب سے آگے ہوتی تھیں اور سنجیدگی سے کہتا ہوں کہ عاصمہ جہانگیر کا خلا کبھی پُر نہیں ہو گا۔

چیف جسٹس نے اپنے خطاب میں کہا میرے ہوتے ہوئے آئین سے انحراف نہیں ہو گا اور انتخابات میں تاخیر نہیں ہو گی بلکہ مقررہ وقت پر ہونگے کیونکہ آئین میں الیکشن کے التوا کی کوئی گنجائش نہیں۔

یہ خبر بھی پڑھیں: ہم نے دہشت گردوں کو شکست دی اور دنیا اس کو تسلیم کرے، وزیراعظم

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ عدلیہ کے خلاف جھوٹی افوائیں پھیلائی جا رہی ہیں لیکن ہم آئین پر کوئی حرف نہیں آنے دیں گے جبکہ ملک میں صرف جمہوریت اور آئین کی پاسداری ہو گی۔

 انہوں نے کہا کہ جوڈیشل مارشل لاء کا ذکر ہو رہا ہے لیکن جوڈیشل یا کسی اور مارشل لاء کی آئین میں کوئی گنجائش نہیں اور اگر میں اسے نہ روک سکا تو گھر چلا جاؤں گا۔ اگر مجھ میں بطور چیف جسٹس کسی مارشل لاء کو معطل کرنے کی طاقت نہ ہوئی تو بوریا بستر لے کر چلا جاؤں گا۔

 

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں