راؤ انوار کی گرفتاری، آئی ایس آئی، ایم آئی اور ایف آئی اے سے رپورٹس طلب

راؤ انوار کی گرفتاری، آئی ایس آئی، ایم آئی اور ایف آئی اے سے رپورٹس طلب

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے نقیب اللہ قتل از خود نوٹس کی سماعت کے دوران مفرور پولیس افسر راؤ انوار کی گرفتاری سے متعلق آئی ایس آئی، ایم آئی اور ایف آئی اے سے رپورٹس طلب کر لیں۔ جسٹس میاں ثاقب نثار نے کراچی میں پولیس مقابلے میں مارے جانے والے شہری نقیب اللہ قتل پر ازخود نوٹس کی سماعت کی۔


اس موقع پر نمائندہ اسٹیٹ بینک نے عدالت کو بتایا کہ راؤ انوار کے تمام بینک اکاونٹس منجمد کر دیے گئے ہیں جب کہ آئی بی نے مفرور ملزم سے متعلق اپنی رپورٹ پیش کر دی۔

مزید پڑھیں: کمزور ترین پاسپورٹ کی فہرست میں پاکستان کا چوتھا نمبر

آئی ایس آئی، ایم آئی اور ایف آئی اے کی جانب سے رپوٹس پیش نہ کی گئیں جس پر چیف جسٹس نے حکم دیا کہ تینوں ایجنسیاں 11 بجے تک رپورٹس جمع کروائیں۔ جس کے بعد عدالت نے کیس کی سماعت ساڑھے 11 بجے تک ملتوی کردی۔

گزشتہ سماعت پر عدالت نے راؤ انوار کو پیش ہونے کا آخری موقع دیا تاہم وہ پیش نہ ہوئے جس پر چیف جسٹس نے حساس اداروں آئی ایس آئی، آئی بی اور ایم آئی کو ہدایت کی تھی کہ راؤ انوار کی گرفتاری میں سہولت فراہم کریں اور اس حوالے سے رپورٹ پیش کی جائے۔

یہ بھی پڑھیں: پارٹی نشان چھیننے سے یہ کیا ہمارا نشان مٹا دیں گے، نواز شریف

واضح رہے رواں سال 13  جنوری کو ملیر کے علاقے شاہ لطیف ٹاؤن میں سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار نے نوجوان نقیب اللہ محسود کو دیگر 3 افراد کے ہمراہ دہشت گرد قرار دے کر مقابلے میں مار دیا تھا۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اس معاملے پر آواز اٹھائی اور وزیر داخلہ سندھ کو انکوائری کا حکم دیا تھا۔

تحقیقاتی کمیٹی کی جانب سے ابتدائی رپورٹ میں راؤ انوار کو معطل کرنے کی سفارش کے بعد انہیں عہدے سے ہٹا کر نام ای سی ایل میں شامل کر دیا گیا جبکہ چیف جسٹس آف پاکستان نے بھی اس معاملے کا از خود نوٹس لے لیا تھا۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں