سندھ کی معروف سیاسی شخصیت جام ساقی انتقال کر گئے

سندھ کی معروف سیاسی شخصیت جام ساقی انتقال کر گئے

کراچی: اہل خانہ کے مطابق سندھ کی معروف سیاسی شخصیت جام ساقی انتقال گردوں کے فیل ہو جانے کے باعث انتقال کر گئے ہیں۔ انہیں گردوں کے علاوہ مختلف امراض لاحق تھے جن میں ہارٹ اور ذیابطیس بھی شامل ہیں۔ اہل خانہ کے مطابق ان کی تدفین حیدر آباد میں کی جائے گی۔


جام ساقی کے انتقال پر معروف ٹی وی اینکر اور سینئر صحافی حامد میر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ٹوئٹ میں جام ساقی اور مرحوم بینظیر بھٹو کی یاد گار تصویر شیئر کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم کی سیاست کے حوالے سے خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

مزید تفصیل پڑھیں: فاٹا سے ایک نومنتخب آزاد سینیٹر (ن) لیگ میں شامل

حامد میر نے بینظیر بھٹو اور جام ساقی کی جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء کے دور کی تصویر شیئر کی تھی جس میں دونوں سیاست دان فوجی عدالت میں کیس کی سماعت کے دوران موجود تھے۔

جام ساقی 31 اکتوبر 1944 کو سندھ کے معروف سیاسی خاندان میں پیدا ہوئے جو سیاست میں بائیں بازو سے تعلق رکھتا تھا۔ ایک کمیونسٹ کے طور پر وہ کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان کے جنرل سیکریٹری کے عہدے پر بھی فائز رہے۔

یہ بھی پڑھیں: راؤ انوار کی گرفتاری، آئی ایس آئی، ایم آئی اور ایف آئی اے سے رپورٹس طلب

جام ساقی کو 1978 میں جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء کے زمانے میں گرفتار کیا گیا تھا اور ان پر 80 کی دہائی میں فوجی عدالت میں کیس چلایا گیا،۔ مذکورہ عدالت میں پیش ہو کر بینظیر بھٹو نے جام ساقی کے حوالے سے عدالت کو بتایا تھا کہ وہ ریاست کے ایک حب الوطن شہری ہیں اور انہیں لازمی طور پر رہا کیا جانا چاہیے تاہم انہیں جیل بھیج دیا گیا۔

انہوں نے 1988 تک تقریبا 7 سال قید میں گزارے ان کی پہلی اہلیہ نے اپنے خاوند پر تشدد کی خبروں کے بعد خود کشی کر لی تھی۔

بعد ازاں 1990 میں انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) میں شمولیت اختیار کی جبکہ وہ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی کونسل کے رکن بھی رہے۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں