متنازعہ نوٹیفیکیشن کا نقصان

متنازعہ نوٹیفیکیشن کا نقصان

ڈان لیکس کا مسئلہ حل ہوجائیگا لیکن اس کے پیدا کردہ مسائل پاکستان کے استحکام کیلئے نقصان دہ ثابت ہوسکتے ہیں۔


ڈان لیکس قومی سلامتی کی کتنی بڑی خلاف ورزی تھی، یہ آپکو پاکستانی قیادت کے بیانات اور میڈیا کوریج سے نہیں پتہ چلتا۔ کبھی ڈی جی آئی ایس پی آر کی ٹویٹ پر شور مچا کراور کبھی ایبٹ آباد امریکی حملے سے منسلک کر کے قومی سلامتی کی اس بڑی خلاف ورزی کو چھپانے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس معاملے کو سول ملٹری تعلقات اور گریڈ ۲۱ کے افسر جیسے ایشوز میں الجھا کر دفن کرنے کی کوشش اب بھی جاری ہے۔

ڈان لیکس کی کہانی کسی جاسوسی افسانے سے کم نہیں۔ اگر آپ تفصیلات میں جائیں، کس طرح منصوبہ بنایا گیا، اور کیا نتائج حاصل کئے گئے، تو ایسا لگتا ہے کہ یہ منصوبہ بندی انفارمیشن وارفیئر یا اطلاعاتی جنگ کا حصہ ہوسکتی ہے جو نفسیاتی جنگ کا ایک تسلسل ہے۔ اسطرح کے کام دشمن سرزمین سے ہوتے ہیں۔ ہمیں نہیں پتہ کہ اس 'لیک' کی منصوبہ بندی کہاں ہوئی اور کس نے کی البتہ یہ پتہ چل گیا ہے کہ عمل درآمدہمارے وزیر اعظم ہاؤس سے چند اشخاص کے ذریعے ہوا ہے۔

اب وسیع تر منظر بھی دیکھ لیں۔ اس وقت وزیر اعظم ہاؤس میں پاکستان کے پہلے، تین بار منتخب وزیر اعظم موجود ہیں، جو سیاسی پختگی اور تجربے کے لحاظ سے ملک کے  ماہر ترین سیاستدان ہیں۔ نہ صرف یہ بلکہ انہوں ںے مرحوم صدر جنرل ضیاء الحق کے دور میں فوج کیساتھ قریب سے کام کیا ہے اور۱۹۹۹  کے تلخ واقعات سے تجربہ حاصل کیا ہے۔ یہ بہت بڑا المیہ ہے کہ اٹھارہ سال گزرنے کے باوجود وزیر اعظم صاحب، جو اس حیثیت میں ہمارے لئے قابل احترام ہیں، اب بھی فوج کو ساتھ لیکر نہیں چل پا رہے۔ ہمیں یہ معلوم ہے کہ جرنیلوں نے،جنرل کیانی سے لیکر راحیل شریف اور قمر باجوہ تک، ساتھ ملکر چلنے کی کوشش کی ہے۔ ہمیں یہ بھی پتہ ہے کہ وزیر اعظم صاحب بھی سب کو ساتھ لے کر چلنے کی کوشش کررہے تھے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ڈان لیکس تحقیقات میں وزیر اعظم ہاؤس اور جی ایچ کیو ملکر کام کررہے تھے۔ لیکن ۲۹ اپریل کے نوٹیفیکیشن نے سب کچھ بدل دیا۔

کشمیر میں تحریک کے عروج پر اسلام آباد میں وزیر اعظم ہاؤس سے ایک خبر 'لیک' کروائی گئی جس کا خلاصہ یہ تھا کہ پاکستانی فوج متنازعہ علاقے میں دہشتگردی کروا رہی ہے۔ اس بات سےکشمیر پر بھارت کو اپنے اس موقف میںتقویت ملی کہ کشمیر میں تحریک مقامی نہیں بلکہ باہر سے چلائی جارہی ہے۔ اس 'لیک' میں دو مزید مسئلوں کا ذکر تھا جو بھارتی خارجہ پالیسی کا اہم جزو ہیں: ایک پٹھان کوٹ حملہ اور دوسرا ممبئی حملہ۔

ان مسائل کا حوالہ دیتے ہوئے ڈان کی خبر نے یہ لکھ دیا کہ پاکستان دنیا میں سفارتی تنہائی کا شکار ہوگیا ہے۔ یہ حیران کن بات اس لئے تھی کیونکہ نریندرا مودی نے کہا تھا کہ وہ پاکستان کو دنیا میں تنہا کر دے گا۔ اس کی یہ بات بھارت میں بھی نہیں مانی جارہی تھی اور بھارتی وزیر اعظم کی خاصی جگ ہنسائی ہو رہی تھی۔ لیکن پاکستان کے ایک بڑے اور مستند انگریزی اخبار میں اس 'لیک' نے بھارتی حکومت کو بر وقت بچا لیا اور بھارتی پالیسی کو صحیح ثابت کردیا۔

 ڈان اخبار نے 'لیک' نشر کرتے ہوئے واضح کر دیا تھا کہ یہ تمام باتیں اخبار خود نہیں کہہ رہا بلکہ وزیر اعظم ہاؤس کے ذرائع کہہ رہے ہیں۔

ڈان لیک انکوائری کمیٹی کی تحقیقات کے دوران حکومتی ذرائع نے اور خود وزیر اعظم ہاؤس نے مبینہ طور پر اقرار کیا ہے کہ یہ 'لیک' ملک کے چیف ایکزیکٹو کے دفتر کے اندر سے ہوئی ہے۔ اور اب تو پرویز رشید صاحب نے بھی کہہ دیا ہے کہ وزیر اطلاعات کا کام خبر دینا ہے، چھپانا نہیں۔ لیکن انھونے یہ نہیں بتایا کہ آخر ہماری حکومت کو ٹاپ سیکرٹ حکومتی مشاورتی اجلاسوں میں جہاں فوجی قیادت بھی موجود ہو اور حساس نوعیت کے مسائل زیر بحث ہوں جن کا پاکستان کے مفادات پر براہ راست اثر پڑ سکتا ہے انکو خفیہ طور پر کسی اخبار کو بتانے کی کیا ضرورت تھی؟ اور اگر یہ کرنا تھا تو اپنی فوجی قیادت کو جو ساتھ بیٹھی ہے اعتماد میں کیوں نہیں لیا گیا؟

اس لیک نے دو اہم سوالات کھڑے کردیئے ہیں۔ ایک سوال یہ ہے کہ آخر کیوں کوئی اعلی حکومتی افسر حکومت کے اندر سے یہ بات لیک کرے گا کہ پاکستان دنیا میں سفارتی تنہائی کا شکار ہے جبکہ ہمارے سفارتکار بھارت کے اس پروپیگنڈے کو مسترد کررہے ہیں؟ اور دوسرا سوال یہ ہے کہ جب کشمیر میں بھارتی فوج زیر عتاب ہے تو کون پاکستان میں یہ مسئلہ کھڑا کر رہا ہےکہ پاکستانی فوج اور خفیہ ایجنسیاں کشمیر میں ملوث ہیں؟

ڈان اخبار میں اس 'لیک' کا کیا نتیجہ نکلا؟ اس پر بھی نظر ڈال لیں۔ پاکستانی فوج کو گھسیٹ کر کٹہرے میں لا کھڑا کر دیا گیا۔ بھارت نے اس کا فورا فائدہ اٹھایا اور کہا کہ پاکستانی وزیر اعظم ہاؤس نے بھارت کہ اس موقف کی تصدیق کردی کہ کشمیر میں تحریک اندرونی نہیں بلکہ پاکستانی مدد سے پیدا کردہ خلفشار ہے۔ یاد رہے کہ یہ اکتوبر کی بات ہے۔ اسوقت بھارت بری طرح کشمیر میں پھنسا ہوا تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب پاکستان کی اپنی تمام تر سفارتکاری کشمیر پر مرکوز تھی۔

بھارت کشمیر میں کمزوری کی حالت میں تھا اور اب بھی ہے۔ اس حالت میں یہ بھارت کا مفاد تھا کہ پاکستان کی توجہ ہٹائی جائے تاکہ ہم بھارت کی کمزوری سے فائدہ نہ اٹھا سکیں۔

خلاصہ یہ ہے کہ ڈان لیکس فوج اور کشمیر دونوں پر کاری ضرب تھا۔ ہمارے وزیر اعظم ہاؤس میں چند اشخاص نے ایسی 'لیک' ترتیب دی جس سے بھارت کو فائدہ ہوا۔

اس سکینڈل کا فوج کے اندر بہت برا اثر پڑا ہے۔ آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کو کئی مرتبہ جوانوں سے سوالات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اگرچہ کمانڈرز اور سپاہیوں کے مابین اسطرح کی گفتگو معمول کی بات ہے اور عسکری روایات کا حصہ ہے، لیکن ڈان لیکس پر مسلسل سوالات کا سامنا اس امر کی نشاندہی کرتا کہ ہماری فوج میں اس مسئلہ پر گہری تشویش ہے۔

فوجی قیادت پر یہ بھی پریشر تھا کہ فوج نے قومی سلامتی کہ اس مسئلہ پر حکومت کیساتھ سمجھوتہ کرلیا ہے اور مسئلہ کو دفن کردیا گیا ہے۔ یہ بات میڈیا نے باربار اٹھائی۔ لیکن فوج کے ترجمان کی ٹویٹ نے اس تاثر کو غلط ثابت کردیا ہے۔ کون ڈان لیکس تحقیقات کو دفن کرنا چاہ رہا ہے اور کون ان تحقیقات کو منطقی انجام تک لے جانا چاہتا ہے، یہ سب فوجی ترجمان کی ٹویت نے واضح کردیا ہے۔ اس ٹویٹ کا یہ بڑا فائدہ ہوا ہے۔ سوال یہ کہ فوج کو اس طرح کے بیان دے کر اپنی صفائی دینے پر کس نے مجبور کیا تھا؟ اور فوج کو اس مشکل پوزیشن میں کس نے ڈالا؟

حکومتی اور عسکری ذرائع جو کافی عرصے سے جاری ڈان لیکس تحقیقات سے واقف ہیں کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم ہاؤس اور جی ایچ کیو نے باہمی اتفاق اور تعاون سے تحقیقات اور اگلے اقدامات پر اتفاق پیدا کرلیا تھا۔ عسکری حکام نے وزیر اعظم کو اپنے مسائل اور تحفظات سے بھی آگاہ کردیا تھا اور کچھ سفارشات بھی وزیر اعظم کے سامنے پیش کردی تھیں۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ اس سارے معاملے میں عسکری قیادت کا یقین تھا کہ فیصلہ وزیر اعظم  نے ہی کرنا ہے۔ خیال یہ تھا کہ نواز شریف صاحب اپنی فوج کی قیادت کے کچھ سفارشات اور گزارشات کو سمجھیں گے، بالکل اسی طرح جس طرح فوجی قیادت حکومت کے موقف اور تحفظات کو سمجھ رہی ہے۔ آخری وقت تک ڈان لیکس کے حوالے سے جو اعلانات اور اقدامات ہونے تھے ان پر مکمل اتفاق تھا۔ لیکن نوٹیفیکیشن جو آیا وہ وزیر اعظم ہاؤس اور جی ایچ کیو کے درمیان اس موضوع پر باہمی اتفاق سے منحرفتھا۔

پہلے تو یہ 'لیک' نہیں ہونی چاہئے تھی۔ پھر ہمیں یہ بھی نہیں پتہ کہ اس 'لیک' کے پیچھے کیا سازش تھی۔ اور اب اگر فوج معاملہ کو حل کرنا چاہ رہی ہے تو آپ اس پر بھی تیار نہیں اور اس معاملے کو الجھانے کیلئے آپ ماضی کی باتوں کو کرید رہے ہیں اور سول ملٹری تعلقات کو پھرخراب کردیا ہے۔جموریت اور ملک کیلئے یہ بات زہر قاتل ہے کہ وزیر اعظم ہاؤس اپنی فوج کیساتھ ملکر کام کرنے کیلئے تیار نہیں۔ یہ ہمارے لئے لمحہ فکریہ ہے۔

 

احمد قریشی پاکستانی صحافی، محقق اور مصنف ہیں جو    ںیو ٹی وی نیٹ ورک کے ساتھ منسلک ہیں۔

اور ایٹ کیو پروگرام کے اینکر ہیں۔ انکا پروگرام جمعہ، ہفتہ، اتوار شام آٹھ بجے دیکھا جا سکتا ہے۔

رابطہ کیلئے

ahmed.quraishi@neonetwork.pk

@office_AQpk

FB.com/AhmedQuraishiOfficial

یہ بلاگ بھی پڑھیں: کس نے پاکستان کو ریاض اجلاس میں نظر انداز کیا؟

یہ  بلاگ بھی پڑھیں: مشال خان: ایک ضروری وقفہ