پاکستان میں قراردادیں منظور ہو جاتی ہیں اصل مسئلہ عمل درآمد کا ہے: چیف جسٹس

پاکستان میں قراردادیں منظور ہو جاتی ہیں اصل مسئلہ عمل درآمد کا ہے: چیف جسٹس
فوٹو بشکریہ فیس بک

اسلام آباد: چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار نے کہا ہے کہ عوام کے حقوق کے تحفظ کی ذمےداری ہماری ہے، کسی کو بنیادی انسانی حقوق سلب کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔


چیف جسٹس ثاقب نثار نے جوڈیشل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عدلیہ ریاست کا تیسرا بڑا ستون ہے، عدلیہ آئین کی محافظ ہے، قانون سازی کا تہہ دل سے احترام کرتے ہیں، ہم اپنے حلف سے کبھی بے وفائی نہیں کریں گے۔

یہ خبر بھی پڑھیں: نہ پارٹی سے ناراض ہوں، نہ چھوڑ کر جانا چاہتا ہوں: چوہدری نثار

 انہوں نے مزید کہا کہ پُر امن معاشرے ہی ترقی کے منازل طے کرتے ہیں، قانون کی حکمرانی کے بغیر ترقی حاصل نہیں کی جاسکتی۔ ریاست چلانا عوام کے منتخب نمائندوں کا کام ہے، آئین کے احکامات کی پابندی کرنا سب پر لازم ہے۔

یہ خبر بھی پڑھیں: سمندر کے بیچوں بیچ، دنیا کا ایک نیا عجوبہ تیار

 چیف جسٹس نے کہا ہے کہ مقننہ کا احترام کرتے ہیں، عدلیہ نے آئین کے تحفظ اور دفاع کا حلف لے رکھا ہے۔ ہم بہت خوش نصیب ہیں کہ ہمارے پاس آئین ہے۔ پاکستان میں قراردادیں منظور ہو جاتی ہیں اصل مسئلہ عمل درآمد کا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بار کونسلز لااینڈ جسٹس کمیشن کو سفارشات پیش کرسکتی ہیں، میری استدعا ہوگی جسٹس آصف کھوسہ عمل درآمد کمیٹی کے سربراہ ہوں۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں