پرویز مشرف کو وطن واپسی کیلئے کل دوپہر 2 بجے تک کی مہلت

پرویز مشرف کل 2 بجے تک آ جائیں ورنہ قانون کے مطابق فیصلہ کر دیں گے، چیف جسٹس۔۔۔فائل فوٹو

لاہور: سپریم کورٹ نے سابق صدر پرویز مشرف کو وطن واپسی کے لیے کل دوپہر 2 بجے تک کی مہلت دے دی۔ چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کی سماعت کی۔

 

اس موقع پر پرویز مشرف کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ بغاوت کے مقدمے کا سامنا کرنے کو تیار ہیں تاہم تحفظ کی ضمانت دی جائے جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ پہلے کہہ چکے کہ پرویز مشرف واپس آئیں انہیں تحفظ دیں گے تاہم لکھ کر گارنٹی دینے کے پابند نہیں۔

 

مزید پڑھیں: زلفی بخاری کا نام ای سی ایل سے نکالنے پر وزارت داخلہ سے رپورٹ طلب

چیف جسٹس نے کہا کہ پرویز مشرف سیاستدانوں کی طرح میں آ رہا ہوں کی گردان مت کریں انہیں کس بات کا تحفظ ہے اور کس خوف میں مبتلا ہیں اگر وہ کمانڈو ہیں تو آ کر دکھائیں بڑا کمانڈو کیسے خوف کھا گیا۔

 

چیف جسٹس نے کہا کہ پرویز مشرف کل 2 بجے تک آ جائیں ورنہ قانون کے مطابق فیصلہ کر دیں گے اور اگر وہ نہ آئے تو ان کے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال نہیں ہونے دیں گے۔

 

یہ بھی پڑھیں: کتاب شائع ہونے سے پہلے کسی کی ساکھ کو کیسے نقصان پہنچا سکتی ہے، ریحام

پرویز مشرف کے وکیل نے کہا کہ ان کے موکل کو رعشہ کی بیماری ہے جس کے لیے میڈیکل بورڈ ہونا ہے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ وہ ایئر ایمبولینس میں آ جائیں ہم میڈیکل بورڈ بنا دیتے ہیں۔ بعد ازاں عدالت نے سماعت کل تک کے لیے ملتوی کردی۔

 

 

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں