پنجاب حکومت کو 2 ماہ میں گھریلو ملازمین کے تحفظ کیلئے قانون سازی کرنے کا حکم

پنجاب حکومت کو 2 ماہ میں گھریلو ملازمین کے تحفظ کیلئے قانون سازی کرنے کا حکم

لاہور: لاہور ہائیکورٹ نے گھریلو ملازمین پر تشدد کی روک تھام کیلئے قانون سازی کے لئے پنجاب حکومت کو دو ماہ کا وقت دے دیا۔


لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس جواد حسن نے شیراز ذکاء ایڈووکیٹ کی درخواست پر سماعت کی۔ جس میں گھریلو ملازمین کے تحفظ کے حوالے سے قوانین کی عدم موجودگی کی نشاندہی کی گئی۔

مزید پڑھیں: راؤ انوار عدالت آ جائے گا تو بچ جائے گا، چیف جسٹس

درخواست گزار وکیل نے افسوس کا اظہار کیا کہ 3 سال پہلے ہائیکورٹ نے گھریلو ملازمین کے تحفظ کیلئے قانون سازی کرنے حکم دیا تھا۔

لاہور ہائیکورٹ نے عدالتی کمیشن کو ہدایت کی کہ وہ اپنی سفارشات پر مشتمل رپورٹ پنجاب حکومت کو دیں تاکہ اس کی روشنی میں گھریلو ملازمین کے تحفظ کیلئے قانون سازی کی جا سکی لیکن ابھی عدالتی احکامات پر عمل نہیں ہو سکا۔

یہ خبر بھی پڑھیں: بیگم کلثوم نواز 10 گھنٹے زیرعلاج رہنے کے بعد اسپتال سے ڈسچارج

لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب حکومت کو 2 ماہ میں گھریلو ملازمین کے تحفظ کیلئے قانون سازی کرنے کا حکم دے دیا اور ہدایت کی قانونی سازی کر کے اس کی رپورٹ عدالت میں پیش کی جائے۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں