اقامہ کیس میں خواجہ آصف تاحیات نااہل قرار

اقامہ کیس میں خواجہ آصف تاحیات نااہل قرار
اسلام آباد ہائیکورٹ نے اقامہ کیس میں ن لیگ کے اہم رہنما خواجہ آصف کو تاحیات نااہل قرار دے دیا۔۔۔فائل فوٹو

اسلام آباد: اقامہ کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے تین رکنی بینچ نے مسلم لیگ ن کے رہنما  اور وزیر خارجہ خواجہ آصف کو نااہل قرار دے دیا۔


جسٹس اطہر من اللہ نے خواجہ آصف کی نااہلی سے متعلق فیصلہ پڑھ کر سنایا۔ فیصلے کے مطابق خواجہ آصف کو آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت تاحیات نااہل قرار دیا گیا ہے جس کے بعد ان کی قومی اسمبلی کی رکنیت بھی ختم ہو گئی۔

عدالت عالیہ نے فیصلے کی مصدقہ کاپی الیکشن کمیشن کو بھجوانے کا حکم بھی دیا جس کے بعد خواجہ آصف کو ڈی سیٹ کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا۔

مزید پڑھیں: ہمارے کسی ملک کے خلاف کوئی مخالفانہ عزائم نہیں: آرمی چیف

تحریک انصاف کے رہنما عثمان ڈار نے اقامہ کی بنیاد پر وزیر خارجہ خواجہ آصف کی نااہلی کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی تھی جس پر جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں تین رکنی لارجر بینچ نے دلائل مکمل ہونے اور دستاویزات کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ 10 اپریل کو محفوظ کیا تھا۔

عدالت نے حکم دیا تھا کہ اگر اس کیس میں کچھ تحریری چیزیں جمع کرانا ہیں تو کرا دیں۔ اس پر خواجہ آصف کے وکیل نے کمپنی کا خط جمع کرایا تھا جس میں بتایا گیا تھا کہ ان کے مؤکل جس کمپنی کے لیگل ایڈوائزر ہیں اس کا نمائندہ عدالت میں پیش ہو کر بیان دینے کے لیے تیار ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ خواجہ آصف کمپنی کے فل ٹائم نہیں بلکہ پارٹ ٹائم ملازم ہیں۔

خیال رہے پی ٹی آئی رہنما عثمان ڈار کی درخواست پر پہلے جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی تاہم بعد میں جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کی طرف سے معذرت کے بعد نیا بینچ تشکیل دیا گیا۔

جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں نئے بینچ نے روزانہ کی بنیاد پر کیس کی سماعت کرتے ہوئے دلائل مکمل ہونے اور دستاویزات کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا

یہ بھی پڑھیں: جماعت اسلامی کا پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت سے علیحدگی کا فیصلہ

واضح رہے تحریک انصاف کے رہنما عثمان ڈار کی جانب سے 11 اگست 2017 کو خواجہ آصف کو آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 کے تحت نااہل قرار دینے کے لیے دائر کی گئی درخواست میں الزام لگایا گیا تھا کہ وفاقی وزیر خارجہ نے متحدہ عرب امارات کی کمپنی میں ملازمت کے معاہدے اور اس سے حاصل ہونے والی تنخواہ کی تفصیلات 2013 کے انتخابات سے قبل ظاہر نہیں کیں اس لیے وہ قومی اسمبلی کی رکنیت کے مستحق نہیں۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں