رہائی کے بدلے سعودی حکومت سے ایک معاہدہ ہوا، ولید بن طلال

رہائی کے بدلے سعودی حکومت سے ایک معاہدہ ہوا، ولید بن طلال

ریاض: دنیا کے امیر ترین افراد میں شمار کیے جانے والے سعودی شہزادے ولید بن طلال کا کہنا ہے کہ انہیں سعودی حکومت سے معاہدے کے بعد رہائی ملی ہے اور ان کی فرم کنگڈم ہولڈنگ اپنے 13 ارب ڈالر کے اثاثے جلد سعودی عرب منتقل کرے گی۔


کنگڈم ہولڈنگز کے مالک شہزادہ ولید بن طلال کا رہائی کے بعد ایک انٹرویو میں کہنا تھا کہ انہوں نے رہائی کے بدلے سعودی حکومت سے ایک معاہدہ کیا ہے تاہم انہوں نے معاہدے کی تفصیلات سے آگاہ نہیں کیا۔

مزیدتفصیل پڑھیں: ڈی جی خان میں سخی سرور کے قریب سکیورٹی فورسز سے فائرنگ کا تبادلہ،3 دہشتگرد ہلاک

ان کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ حساس اور خفیہ ہے جو ان کے اور سعودی حکومت کے درمیان ہے اور وہ اس معاہدے کا احترام کریں گے۔ ایک سوال کے جواب میں شہزادہ طلال نے کہا کہ ان کے گلوبل انویسٹمنٹ فرم میں اب بھی 95 فیصد حصص داری برقرار ہے۔

شہزادہ طلال نے کہا کہ وہ سعودی عرب میں منصوبوں کے لیے شاہی دولت فنڈ سے مشترکہ سرمایہ کاری کے لیے رابطے میں ہیں اور ان کی کنگڈم ہولڈنگ اپنے 13 ارب ڈالر کے اثاثے سعودی عرب منتقل کرے گی۔

یہ خبر بھی پڑھیں: پاکستان میں پی ایس ایل کا فائنل بھارت کے منہ پر طمانچہ ہے، چیئرمین سینیٹ

یاد رہے کہ شہزادہ ولید بن طلال سعودی عرب میں کرپشن الزامات کے تحت تین ماہ تک نظر بند رہے انہیں اس سال جنوری کے آخر میں رہائی ملی تھی۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں