کراچی : سندھ ہائیکورٹ میں دودھ کے نرخ مقرر کرنے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی تو کمشنر کراچی اعجاز احمد خان نے عدالت میں پیش ہو کر بتایا کہ تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر دودھ کی قیمت 94 روپے لیٹر طے کی ہے۔ نرخ سے متعلق ڈرافٹ پر سب کے دستخط بھی لیے گئے ہیں۔ کمشنر کراچی نے دودھ کی قیمت سے متعلق ڈرافٹ عدالت میں بھی پیش کیا۔

اس موقع پر ریٹیلرز ایسوسی ایشن نے دودھ کے نرخ 94 روپے فی لیٹر مقرر کرنے پر اعتراض کیا اور ریٹیلرز کے وکیل نے کہا کہ ہمیں دودھ مہنگا پڑ رہا ہے تاہم کچھ دیر بعد ریٹیلرزایسوسی ایشن کے دونوں دھڑے دودھ کی قیمت 94 روپے لیٹر کرنے پر راضی ہو گئے۔

مزید پڑھیں:  ڈالر کے سامنے پاکستانی روپے کی بے قدری کا سلسلہ جاری

دوران سماعت جسٹس عقیل عباسی نے ریمارکس دیئے کہ ہمیں غریبوں کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کیونکہ دودھ بنیادی ضرورت ہے اور لوگوں کے پاس کھانے کو کچھ نہیں جبکہ آپ لوگ یہاں بحث کر رہے ہیں لیکن غریبوں کا کیا ہو گا؟ ایسا نہ ہو کہ ہم سندھ حکومت کو مداخلت کی ہدایت جاری کریں۔

یہ خبر بھی پڑھیں:  ماہرہ خان کی سگریٹ نوشی کرتے ہوئے ایک اور ویڈیو وائرل ہو گئی

جسٹس عقیل نے کہا کہ حکومت کو ہدایت کریں گے کہ لوگوں کوکچھ سبسڈی بھی دے۔ بعد ازاں سندھ ہائیکورٹ نے کمشنر کراچی کو دودھ کی قیمت کا نوٹیفکیشن جاری کرنے کی ہدایت دی اور ساتھ ہی حکم دیا کہ یکم اپریل تک دودھ 85 روپے فی کلو فروخت ہو گا جب کہ نئی قیمت کا اطلاق یکم اپریل کے بعد ہو گا۔

 

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں