چیف جسٹس نے اہم کیس میں عطا الحق قاسمی سے رقم کی واپسی کا مطالبہ کر دیا

چیف جسٹس نے اہم کیس میں عطا الحق قاسمی سے رقم کی واپسی کا مطالبہ کر دیا

image by facebook

اسلام آباد: چیف جسٹس جسٹس ثاقب نثار کا کہنا ہے کہ عطا الحق قاسمی خرچ کیے گئے 27 کروڑ روپے واپس کر دیں تو تو کیس ختم کر دیں گے۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے منیجنگ ڈائریکٹر ( ایم ڈی ) پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) کی تعیناتی کیس میں عطاءالحق قاسمی، سابق وزیر اطلاعات پرویز رشید اور سابق وزیر اعظم کے سیکریٹری فواد حسن فواد کو طلب کرتے ہوئے ریمارکس دیئے ہیں کہ عطاء الحق قاسمی پر 27 کروڑ روپے خرچ کیے گئے، وہ پیسے واپس کر دیں تو کیس ختم کردیں گے۔

سپریم کورٹ میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے ایم ڈی پی ٹی وی کی تعیناتی سے متعلق کیس کی سماعت کی، اس دوران وکیل عائشہ حامد عدالت میں پیش ہوئی۔

دوران سماعت وکیل عائشہ حامد نے عدالت کو بتایا کہ آڈٹ رپورٹ پر اعتراضات جمع کروا دیے ہیں، عطاءالحق قاسمی نے 2 سال میں 3 کروڑ 58 لاکھ 60 ہزار روپے تنخواہ وصول کی، اس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا عطاءالحق قاسمی اتنی بھاری تنخواہ کے اہل تھے؟

یہ بھی پڑھیئے:نگراں حکومت نے پیٹرول بم گرانے کی تیاری کر لی
 
  چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ عطاء الحق قاسمی پر 27 کروڑ روپے خرچ ہوئے، لوٹا، بالٹی، چادر اور تولیے بھی قاسمی صاحب کو پی ٹی وی نے لے کر دیئے ، 15 لاکھ روپے کی اسلام آباد کلب کی ممبر شپ بھی پی ٹی وی نے دلوائی۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ اس وقت ہم کرپشن کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں کیوں نا غیر قانونی تعیناتی کا کیس قومی احتساب بیورو ( نیب ) کو بجھوا دیں۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا عطاء الحق قاسمی رقم دینے کو تیار ہیں؟ عطاء الحق قاسمی 27 کروڑ روپے واپس کر دیں تو کیس ختم کر دیتے ہیں، یہ پیسے ڈیم کی تعمیر کے لیے رکھ دیں گے، 80 سال کے بندے کو ہم نے جیل بھیج کر کیا کرنا ہے۔

عدالت میں سماعت کے دوران چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیے کہ جتنے پیسے خرچ ہوئے ہیں، وہ سابق وزیراعظم اور سابق وزیر اطلاعات پرویز رشید دونوں سے وصول کریں گے۔

بعد ازاں عدالت نے منگل ( 3 جولائی ) کو سابق ایم ڈی پی ٹی وی عطاء الحق قاسمی، سابق وزیر اطلاعات پرویز رشید، سابق وزیر اعظم کے سیکریٹری فواد حسن فواد طلب کرلیا، ساتھ ہی عطاء الحق قاسمی کی تعیناتی کی سمری جس پر وزیراعظم نے دستخط کیے تھے وہ بھی عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

خیال رہے کہ گزشتہ سماعت میں چیف جسٹس نے عطاء الحق قاسمی کی بطور ایم ڈی پی ٹی وی تعیناتی میں سرکاری خزانے سے خرچ ہونے والے 27 کروڑ روپے کے اخراجات کے آڈٹ کروانے کا حکم دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:شریف فیملی کا NA-125 کے عوام سے 32 سال پرانا ساتھ ختم
 
 
یاد رہے کہ عطاءالحق قاسمی کو 23 دسمبر 2015 کو پی ٹی وی کا چیئرمین تعینات کیا گیا تھا تاہم ان کے حوالے سے تنازع اپریل 2017 میں سامنے آیا تھا جب انہوں نے خود کو ایم ڈی پی ٹی وی منتخب کر لیا تھا۔

تنازع سامنے آنے کے بعد سیکریٹری اطلاعات سردار احمد نواز سکھیرا کو قائم مقام ایم ڈی پی ٹی وی تعینات کیا گیا تھا جبکہ انہوں نے دسمبر 2017 میں اپنے عہدے سے استعفیٰٰ دے دیا تھا۔

عطاءالحق قاسمی نے مبینہ طور پر وزرات اطلاعات و نشریات کے مایوس کن رویے سے دلبرداشہ ہو کر بطور چیئرمین پی ٹی وی 14 دسمبر 2017 کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔