احتساب عدالت کا نواز شریف کو پیر کو پیش کرنے کا حکم

احتساب عدالت کا نواز شریف کو پیر کو پیش کرنے کا حکم

العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ ریفرنس جج محمد بشیر سے جج محمد ارشد کی عدالت میں منتقل کر دیا تھا۔۔۔۔فائل فوٹو

اسلام آباد: احتساب عدالت نے العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ انوسٹمنٹ ریفرنسز کی سماعت کے دوران سابق وزیراعظم نواز شریف کو پیر (13 اگست) کو پیش کرنے کا حکم دے دیا۔ احتساب عدالت کے جج محمد ارشد ملک نے نواز شریف کے خلاف نیب ریفرنسز پر سماعت کی۔

 

احتساب عدالت کے جج محمد بشیر 6 جولائی کو ایون فیلڈ ریفرنس میں نواز شریف کو مجموعی طور پر 11 سال قید اور جرمانے، مریم نواز کو مجموعی طور پر 8 سال قید اور جرمانے جبکہ ان کے شوہر کیپٹن (ر) صفدر کو ایک سال قید کی سزا سنا چکے ہیں۔

 

مزید پڑھیں: سوشل میڈیا کے ذریعےخاتون کو بلیک میل اور بدنام کرنیوالا ملزم گرفتار
 

آج سماعت کے آغاز پر جج محمد ارشد ملک نے ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب سردار مظفر عباسی سے استفسار کیا کہ دونوں ریفرنسز میں کارروائی کہاں تک پہنچی؟۔ سردار مظفر عباسی نے آگاہ کیا کہ العزیزیہ اسٹیل ملز میں پاناما جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاء کے بعد صرف ایک گواہ کا بیان باقی ہے۔

 

انہوں نے مزید بتایا کہ دونوں ریفرنسز میں 3 ملزمان ہیں۔ نوازشریف کے خلاف کارروائی چل رہی ہے جبکہ ان کے صاحبزادوں حسن اور حسین نواز کو احتساب عدالت عدم حاضری پر اشتہاری قرار دے چکی ہے۔

 

سماعت کے بعد جج محمد ارشد ملک نے نواز شریف کو پیر کو پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔

یہ خبر بھی پڑھیں: نئی حکومت کو آئی ایم ایف کے متعلق جلد فیصلہ کرنا ہوگا:اسد عمر

واضح رہے کہ 7 اگست کو لاہور ہائیکورٹ نے العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ ریفرنس کی منتقلی سے متعلق نواز شریف کی درخواست منظور کرتے ہوئے انہیں جج محمد بشیر سے جج محمد ارشد کی عدالت میں منتقل کر دیا تھا۔

 

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں