نوازشریف کی زبان پر کلبھوشن یادیو کا نام آتے آتے2 سال 2 ماہ ، 12 دن لگ گئے

نوازشریف کی زبان پر کلبھوشن یادیو کا نام آتے آتے2 سال 2 ماہ ، 12 دن لگ گئے
کل بھوشن یادیو کو 3 مارچ 2016ءکو بلوچستان سے گرفتار کیا گیا...تصویر بشکریہ یوٹیوب

لاہور:سابق وزیراعظم نوازشریف کی زبان پر بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کا نام آتے آتے2 سال 2 ماہ ، 12 دن لگ گئے۔


تفصیلات کے مطابق آخر کار نوا ز شریف نے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کا نام لے ہی لیا اور کہا کہ کلبھوشن یادیو ایک جاسوس سپاہی تھا اور میں بھی کہتا ہوں وہ جاسوس تھا۔خیال رہے کہ کل بھوشن یادیو کو 3 مارچ 2016ءکو بلوچستان سے گرفتار کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:نواز شریف کا انٹرویو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ، شہباز شریف

29 مارچ کو کلبھوشن یادیوکے مبینہ اعترافی بیان کی ویڈیو جاری کی گئی۔اپنے وزارت عظمیٰ کے دور میں اپوزیشن کے مسلسل اصرار کے باوجود ایک بار بھی نواز شریف نے کل بھوشن یادیو کا نام نہ لیا اوراب 2 سال ، 2 ماہ ، 12 دن بعد نام لیا ہے ، تو صرف اتنا کہا کہ وہ بھارتی جاسوس سپاہی تھا ،تاہم اب بھی یہ سوال باقی ہے ، کیا کل بھوشن یادیو دہشت گرد نہیں؟۔

یہ بھی پڑھیں:بھارتی عدم تعاون اور ہٹ دھرمی ممبئی حملہ کیس کی پیش رفت میں سب سے بڑی رکاوٹ بنا:چودھری نثار

واضح رہے کہ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو تین مارچ دو ہزار سولہ کو بلوچستان سے گرفتار کیا گیا،سیکیورٹی ایجنسیز نے کلبھوشن یادیو کو ایران سے آتے ہوئے حراست میں لیا،تفتیش کے دوران کلبھوشن یادیو نے پاکستان میں جاسوسی کا اعتراف کیا، کلبھوشن یادیو بھارتی نیوی کا حاضر سروس اہلکار ہے۔

بھارتی خفیہ ایجنسی ”را” کا ایجنٹ علیحدگی پسند تنظیموں سے رابطے میں تھا، کلبھوشن یادیو دہشت گرد گروپوں سے مل کر بلوچستان میں تخریب کاری کرتا تھا، کلبھوشن یادیو نے ایک نیٹ ورک بھی قائم کیا جسے وہ گزشتہ دس برس ایران کے سرحدی علاقے چابہار سے کنٹرول کرتا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:جو میاں صاحب نے کہا ملک کے بہترین مفاد میں کہا، مریم نواز

کلبھوشن کے خلاف بلوچستان کی حکومت نے دہشت گردی کی دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کروا دی۔10 اپریل کو کلبھوشن یادیوکو فوجی عدالت نے ملک میں دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا مجرم قرار دیتے ہوئے سزائے موت سنا دی۔

یہ بھی پڑھیں:جرمن کمپنی نے شراب کی بوتلوں کے ڈھکنوں پر سعودی عرب کا جھنڈا پرنٹ کردیا

10 مئی کو بھارت نے کلبھوشن یادیو کی پھانسی کی سزا پر عمل رکوانے کے لیے عالمی عدالت انصاف میں درخواست دائر کی ۔15 مئی کو عالمی عدالت میں بھارتی درخواست کی سماعت ہوئی اوردونوں جانب کا موقف سننے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔

یہ بھی پڑھیں:نواز شریف نے مریم نواز کو متنازعہ انٹرویو کے حوالے سے بات کرنے پر روک دیا

18 مئی کو عالمی عدالت نے اپنے فیصلے میں پاکستان کو ہدایت دی کہ مقدمے کا حتمی فیصلہ آنے تک کلبھوشن یادیو کو پھانسی نہ دی جائے۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں