لاہور: متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے رہنما رؤف صدیقی کا کہنا ہے کہ اپنی شادی میں واحد رکاوٹ وہ خود تھے۔ رؤف صدیقی نے بتایا کہ وہ 1991 میں بھی شادی کرنے جا رہے تھے اور تمام تیاریاں تقریباً مکمل ہو گئی تھی لیکن پھر کراچی میں آپریشن ہوا۔ قتل و غارت گری ہوئی اور اس کے بعد انہوں نے پھر پلٹ کر شادی کی طرف نہیں دیکھا۔

 

انہوں نے بتایا کہ جب میں کتاب سیرتِ خیر البشر ﷺ' تحریر کر رہا تھا تو ایک جگہ ایک حدیث کا مفہوم تھا کہ ''جب کوئی شخص نکاح کر لیتا ہے تو اپنا آدھا دین مکمل کر لیتا ہے'' اسے پڑھ کر میں نے شادی کے بارے میں دوبارہ سنجیدگی سے سوچا اور میری بہنوں کی بھی خواہش تھی کہ میں شادی کر لوں۔

 

مزید پڑھیں: سابق ایم این اے نواب شیر وسیر کا تحریک انصاف میں شامل ہونے کا فیصلہ
 

رؤف صدیقی نے ایک دلچسپ واقعہ بتاتے ہوئے کہا کہ ایک انٹرویو میں صحافی سے کہا تھا کہ مجھے زندگی بھر ایک اچھی لڑکی کی تلاش تھی لیکن جب اچھی لڑکی ملی تو اسے بھی کسی اچھے لڑکے کی تلاش تھی۔

 

انہوں نے بتایا کہ ان کی اہلیہ ان کی بہنوں کی پسند ہے جن کا تعلق نواب شاہ سے ہے اور ان کے خاندان کو وہ برسوں سے جانتے تھے۔

 

رؤف صدیقی نے بتایا کہ جب میں جیل میں تھا، تو وہ مجھ سے ملنے جیل بھی آتی تھیں۔  ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ ان کے اردگرد موجود سارے لوگ شادی شدہ ہیں اور کم از کم اب ان کا یہ احساس کمتری ختم ہو گیا ہے کہ شادی نہیں ہوئی۔

 

 یہ خبر بھی پڑھیں:  ابھی کوئی ایسا فیصلہ کیا ہی نہیں جو اچھا نہ لگے، چیئرمین سینیٹ

رؤف صدیقی نے کہا کہ یہ قدرت کی طرف سے طے شدہ امر ہوتا ہے ایسا ہونا تھا تو ایسا ہو گیا،لیکن شادی میں انہیں اپنی مرحومہ سب سے بڑی بہن کی غیر موجودگی کا بہت دکھ تھا۔

 

انٹرویو کے دوران رؤف صدیقی نے اپنے گھنے اور کالے بالوں کا راز بتاتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کبھی کسی چیز کا خیال نہیں کیا۔ ان کے بال قدرتی طور پر ایسے ہی ہیں لیکن وہ ناریل کا تیل ضرور لگاتے ہیں۔

 

واضح رہے کہ سابق صوبائی وزیر رؤف صدیقی رواں ماہ کے آغاز میں 57 برس کی عمر میں مکہ مکرمہ میں انتہائی سادگی سے رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئے تھے۔ ان کا ولیمہ 13 اپریل کو کراچی میں ہوا تھا۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں