کراچی، بچی سے زیادتی اور قتل کیخلاف احتجاج، فائرنگ سے ایک شخص جاں بحق

کراچی، بچی سے زیادتی اور قتل کیخلاف احتجاج، فائرنگ سے ایک شخص جاں بحق

کراچی: منگھوپیر میں 7 سالہ رابعہ سے زیادتی اور قتل کے واقعے کے خلاف پرتشدد مظاہرے کے دوران فائرنگ سے ایک شخص جاں بحق ہو گیا۔

 

 ذرائع کے مطابق عباسی شہید اسپتال میں لیڈی ایم ایل او نے بچی کی لاش کا پوسٹ مارٹم کیا جس میں اس سے زیادتی کی تصدیق ہوئی۔

 

ذرائع کے مطابق پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بتایا گیا کہ بچی کو نہ صرف زیادتی کا نشانہ بنایا گیا بلکہ اس پر تشدد بھی کیا گیا۔ بچی کی ٹانگوں، پیٹھ اور ناخنوں پر تشدد کے نشانات تھے۔

 یہ خبر بھی پڑھیں: کسی بھی سیاسی جماعت سے مذاکرات کے دروازے بند نہیں، خورشید شاہ

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ بچی کو گلے میں پھندا لگا کر قتل گیا جبکہ زخموں کی نوعیت سے پتا چلتا ہے کہ جب اسے اسپتال لایا گیا تو اس کی موت کو 8 سے 10 گھنٹے گزر چکے تھے۔

 

بچی کے لواحقین اور علاقہ مکینوں کی جانب سے کٹی پہاڑی پر ملزمان کی گرفتاری کے لیے احتجاج کیا گیا جو بعدازاں پرتشدد رنگ اختیار کر گیا۔مظاہرین نے میت کے ہمراہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے احتجاج کرتے ہوئے کٹی پہاڑی جانے والی سڑک ٹریفک کے لیے بند کر دی تھی۔

 

مظاہرین سے مذاکرات کے لیے پولیس کی بھاری نفری بھی کٹی پہاڑی پہنچی ابتداء میں بچی کے لواحقین احتجاج ختم کرنے پر راضی ہو گئے تاہم مظاہرین کے ایک گروہ نے احتجاج جاری رکھا اور پولیس پر پتھراؤ شروع کر دیا۔

مظاہرین کے پتھراؤ سے پولیس موبائل کے شیشے ٹوٹ گئے۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے شیلنگ اور ہوائی فائرنگ بھی کی۔

 

ایس پی اورنگی کے مطابق مظاہرے میں پتھراؤ سے 10 پولیس اہلکاروں سمیت 12 افراد زخمی ہوئے جنہیں جناح اسپتال منتقل کر دیا گیا تاہم ایک شخص زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔

مزید پڑھیں: رکن پنجاب اسمبلی مظہر عباس راں کا تحریک انصاف میں شمولیت کا فیصلہ

جناح اسپتال کی ڈائریکٹر سیمی جمالی نے عبدالرحمان نامی شخص کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ اسے مردہ حالت میں اسپتال لایا گیا تھا۔

 

دوسری جانب ایس پی اورنگی نے بتایا کہ بچی کی لاش کو اس کے والد گھر لے کر چلے گئے جبکہ پولیس نے کٹی پہاڑی جانے والی سڑک کو ٹریفک کے لیے بحال کر دیا۔ اس سے قبل صورتحال بگڑنے پر رینجرز کی اضافی نفری بھی طلب کی گئی تھی جبکہ علاقے کو سیل کرتے ہوئے اسکول اور دکانیں بھی بند کروا دی گئی تھیں۔

انسپکٹر جنرل (آئی جی) سندھ اللہ ڈنو نے واقعے کا نوٹس لے کر ڈی آئی جی ویسٹ سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی۔ ترجمان پولیس کے مطابق آئی جی سندھ نے ہدایت کی کہ مقتولہ بچی کے لواحقین کو اعتماد میں لیا جائے اور شواہد اور ورثاء کے بیانات کی روشنی میں تفتیش کو مؤثر بنایا جائے۔ آئی جی سندھ نے ملزمان کی جلد از جلد گرفتاری کو یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی۔

یہ بھی پڑھیں: رکن خیبر پختونخوااسمبلی جاوید نسیم ق لیگ میں شامل ہوگئے

ایس ایس پی ویسٹ عمر شاہد کے مطابق بچی کے والد نے 3 ملزمان کو نامزد کیا تھا جن میں سے 2 کو فوری طور پر گرفتار کر لیا گیا جبکہ تیسرے ملزم کی تلاش کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

 

 واضح رہے کہ گذشتہ روز منگھوپیر میں کچرا کنڈی سے ایک 7 سالہ بچی کی لاش برآمد ہوئی تھی جس کی شناخت رابعہ کے نام سے ہوئی۔

پولیس کے مطابق مقتولہ بچی اورنگی ٹاؤن بلوچ پاڑہ کی رہائشی تھی جو اتوار کو گھر سے کھیلنے کے لیے نکلی تھی اور اس کے بعد لاپتہ ہو گئی تھی۔

بچی کے والد نے تھانہ اورنگی ٹاؤن میں گمشدگی کا مقدمہ درج کرایا تھا تاہم گذشتہ روز بچی کی تشدد زدہ لاش منگھو پیر میں ایک کچرا کنڈی سے برآمد ہوئی۔

 

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں