تنہا مہاجربچے اپنے اہل خانہ کو یورپ بلا سکتے ہیں:یورپی عدالت کا فیصلہ

تنہا مہاجربچے اپنے اہل خانہ کو یورپ بلا سکتے ہیں:یورپی عدالت کا فیصلہ

لکسمبرگ:یورپی یونین کی اعلیٰ ترین عدالت نے کہاہے کہ ایسے تنہا نابالغ مہاجر، جنہیں یورپی ممالک میں سیاسی پناہ دے دی گئی ہو، اپنے اہل خانہ کو اپنے پاس بلوانے کے حق دار ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :شمالی یورپ میں شدید طوفان، آٹھ افراد ہلاک

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اس عدالت نے اپنے ایک فیصلے میں کہا کہ ایسے مہاجر جو اس وقت یورپی یونین میں داخل ہوئے، جب وہ 18 برس سے کم عمر کے تھے اور اس کے بعد ان کی جانب سے سیاسی پناہ کے لیے دائرکردہ درخواست منظور کر لی گئی جبکہ اس دوران وہ قانونی طور پر بالغ کہلائے جانے کی عمر یعنی 18 برس کے ہو چکے ہوں اپنے اہل خانہ کو یورپ بلا سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :- ترکی سے غیر قانونی طور پر یورپ جانے والے 115 پاکستانی گرفتار

یورپی یونین کی اعلیٰ ترین عدالت میں یہ فیصلہ اریٹریا سے تعلق رکھنے والی اس لڑکی کے مقدمے میں دیا گیا، جو 2014 کے اوائل میں 17 برس کی عمر میں ہالینڈ پہنچی تھی، جب کہ جون میں وہ18 برس کی ہو گئی، اس کی جانب سے سیاسی پناہ کے لیے دائر کی جانے والی درخواست پر فیصلہ اس کی اٹھارہویں سالگرہ سے چار ماہ بعد ہوا، جس کے تحت اسے ہالینڈ میں سیاسی پناہ دے دی گئی۔

یہ بھی پڑھیں :- یورپ ترکی پر حملہ کرنے والے دہشت گردوں کی آماجگاہ بن چکا ہے، ایردگان

لکسمبرگ میں قائم یورپی عدالت برائے انصاف نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ایسے تمام تارکین وطن جن کی جانب سے یورپی ممالک میں سیاسی پناہ کی درخواست قبول ہو گئی ہے، اگر وہ یورپی یونین میں داخلے کے وقت 18 برس سے کم عمر کے تھے، تو انہیں یہ حق حاصل ہو گا کہ وہ اپنے والدین کو اپنے پاس بلا سکیں۔